Thursday, 12 September 2013

نہ جانے کیوں سوچنے لگتا ہوں کہ میں بھی"دھشت گرد" بن جاوں

9/11 America Attacks Terrorist Attacks
نہ جانے کیوں سوچنے لگتا ہوں کہ میں بھی"دھشت گرد" بن جاوں
وہ ایک گولی جو ایک پانچ سالہ معصوم شامی مسلمان بچے کے سینے کو چیرتی ہوئی گزرتی ہے ۔ وہ ایک ڈرون جو کہ گڑیا ہاتھ میں پکڑے ایک بے ضرر ننھی گڑیا کہ چیتھڑے اڑا دیتا ہے ۔ ٹینک کا ایک گولہ جو کہ عراق کہ کسی گاوں میں محو خواب معصوم فرشتوں پر گرتا ہے ۔ وہ بے رحم رافضی ۔ خنجر جو کہ عائشہ نامی کسی معصوم بچی کہ گلے پر چلتا ہے۔رات کی تاریکی میں امریکی کیمپ سے نکلا ہوا ایک درندہ جب سویے ہوئے معصوم بچوں پر فائرنگ کررہا ہو

کلاشنکوف کا وہ ایک برسٹ جو کئی یتیموں کو بھی باپ کہ پاس پہنچا دیتا ہے ۔

ابو غریب کا ایک وحشی درندہ جب میری بہنوں پر لپکتا ہے ، ایک خون رنگ خط جسمیں کسی نے اپنے نفس کو ہی قتل کردینے کی استدعا کی ہو ۔ ایک باپرد ،باحیا لڑکی نے جب عزت کی نیلامی ھوتے دیکھ کر دیوار پر اپنا سر دے مارتی ہے ۔

2611 Mumbai Attacks Terrorist Attacks
وحشی درندوں کہ عتاب سے بچنے کہ لیے جب کوئی باکرہ بے پرد بھاگتی ہے ،جب ایک لڑکی کی عزت اس کہ ماں باپ کہ سامنے پامال کی جاتی ہے ۔

جب ایک شخص کو زمین میں زندہ دفنایا جارھا ہوتا ہے ، ایک کی آنکھیں نکال کر اس کو زندہ جلادیا جاتا ہے ۔مصروکشمیر میں سجدے میں مشغول نمازیوں پر جب فائر کھولا جاتا ہے ، بدتہذیب ،بد مذہب انسانوں کا ایک گروہ جب مسلمانوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔ جب اللہ کہ رسول پر فلمیں بنائی جاتی ہیں ،جب قرآن کو چرچ میں جلایا جاتا ہے ۔ جب اللہ کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ جب کوئی فتوی فروش مسلمین کہ قاتلوں سے بازو کھول کر ملتا ہے ۔ جب کتابوں اور تقریروں میں ووٹ ایک مقدس امانت ہے کا درس پاتا ہوں


تو نہ جانے کیوں میں بھی سوچنے لگتا ہوں کہ میں بھی"دھشت گرد" بن جاوں
..

No comments:

Post a Comment