Thursday, 12 September 2013

"مسئلہ مرسی کا نہیں ہے مسئلہ اسلام کا ہے"

Osama Bin Ladin
"مسئلہ مرسی کا نہیں ہے مسئلہ اسلام کا ہے"

میں آپ کو ایک مرد درویش کہ الفاظ یاد دلانا چاہتا ہوں ۔ جس کہ پاس "علماء مشائخ زمینی حقیقتوں کہ ماہرین" کا ایک وفد گیا تھا ۔ یہ مرد درویش بھی عجب انسان تھا خوشبودار تیکھے سے بدن پر سادہ سے کپڑے ،سر پر بڑی سے پگڑی اور ایک سادہ سی چادر۔

لیکن وفد کی آنکھوں میں اس شخص کہ لیے بہت احترام تھا ۔ اس نے بھی بڑی توجہ و دیانتداری کہ ساتھ ان کی ساری گزارشات سنی ۔ مجلس کہ دوران وہ بہت کم بولا ۔ "صاحبان حل و عقد" نے کافی تقریریں و وعظ کیے ، ماہرین زمینی حقائق نے نشیب و فراز سے آگاہ کیا ۔ مفتیان فقہ نے فقہی نکات بیان کیے مگر اس درویش کا جواب حتمی و چند لفظی تھا.

"مسئلہ اسامہ کا نہیں ہے ، مسئلہ اسلام ہے ،آج میں اسامہ کو دے بھی دوں امریکہ پھر بھی آئے گا"



وفد کہ اختتام پر اس مرد درویش نے اپنی سادگی اٹھائی جو کہ ایمان سے لبریز تھی اور کچھ دنوں بعد ہی سردی کہ سخت موسم میں جب افغانستان کہ قبائل برف باری و سخت موسم سے بچنے کہ لیے پہاڑوں سے نیچے کا رخ کرتے ہیں یہ اپنی چادر اوڑھے اوپر کی طرف روانہ ہوگیا ۔ جو نکتہ مفتیان امت کی سمجھ میں نہ آیا وہ ایک سادہ لوح مسلمان کی سمجھ میں آچکا تھا !۔

میزایل ، ڈرون ، ایس ایم جی ، ہموی ، ڈیزی کٹٹر ،سٹیلائٹ اس کا ایمان توڑنے کی سرتوڑ کوشش کہ بعد جب ہانپنے لگے تو مفتیان امت کی سمجھ میں بھی آنے لگا "مسئلہ اسامہ نہیں مسئلہ اسلام ہے"۔

ہاں ہاں مسئلہ نہ اسامہ تھا نہ معصب الزرقاوی تھا نہ بیت اللہ تھا نہ ایویزید مصطفی تھا ، نہ ایو یحیی اللبی تھا مسئلہ اسلام تھا اور ہے ۔!۔
ہاں ہاں مسئلہ آج بھی نہ اخوان ہیں نہ مرسی ہے مسئلہ اسلام ہی ہے ۔ مرسی کی ان مجاہدین اسلام سے کوئی نسبت نہیں مگر ایک تعلق ضرور ہے کہ ان سب کا مسئلہ اسلام ہی ہے ، اور بے شک یہ دین اپنے پر چلنے والوں کی عزت بڑھاتا ہے اور ان کہ مقام بلند کرتا ہے ۔ آج اخوان مرسی کو دے بھی دیں پھر بھی ماریں جائیں گئیں اصحاب الاخدود کہ لیے گڑھے پھر بھی کھودے جائیں گئیں یہ ہم سے ہر گز خوش نہ ہوں گئیں جب تک کہ ہم ان کہ دین کی پیروی نہ شروع کردیں !!۔
کاش کہ اس مرد درویش کی بات آج بھی کسی کی سمجھ میں آجائے "مسئلہ مرسی کا نہیں ہے مسئلہ اسلام کا ہے" کاش کہ یہ بات اخوان کو بھی سمجھ آجائے کاش کہ ہر جگہ کہ مفتیان اکرام کے بھی سمجھ میں آجائے تو پھر یہ امت ، امت واحدہ کا روپ دھار جائے

No comments:

Post a Comment